اس زمیں پر کوئی رسائی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااس زمیں پر کوئی رسائی ہے
میرے ہمدم تو اب جدائی ہے
چشمِ افلاک دیکھتی ہے مجھے
نام تیرا ہی اب دبائی ہے
تیری یادیں ہی میرا مسکن ہیں
تیری خواہش ہی اک سمائی ہے
ڈوب جائے نہ یاد کا منظر
ایک تو ہی تو اب رسائی ہے
پہلے ویسے ہی تم پہ مرتی تھی
جوش و جزبہ تو اب دہائی ہے
تیری خواہش میں گر گئی ہوں یہاں
کیا کرے گا یہ اب برائی ہے
میرے دل کو وہ کر گیا گھائل
تیر یادوں کا جوشنائی ہے
میں جو نکلی چمن سے تب دیکھا
تری ہر طرف ہی جدائی ہے
موت آئے گی اب مجھے وشمہ
روح قبروں کی بھی سجائی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






