اسے کہو میرے آنے کا انتظار کرے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنہ اپنے آپ کو شرمندہ خمار کرے
اسے کہو میرے آنے کا انتظار کرے
میری نظر میں اسی کو حیات کہتے ہیں
جو روٹھ جائے تو عالم کو سوگوار کرے
کسی کی جستجو رکھنا کوئی گناہ نہیں
یہ وہ خطا ہے کہ دل جسکو بار بار کرے
جسے ہو دیکھنے جنت کے نازنیں لمحے
وہ اپنے آپ کو پیش جمال یار کرے
ابھی تو کھویا ہوں میں حسن کی اداؤں میں
غم حیات سے کہنا اب انتظار کرے
جسے ہے ناز اپنے ہاتھ کی لکیروں پر
وہ جان ناز میرے خواب تو شمار کرے
پڑا ہے شمع کے قدموں میں پتنگا جل کر
کہا تھا کس نے حسیں روشنی سے پیار کرے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






