اسے خبر ہی نہیں تھی وہ کس جہان میں تھا
Poet: آرب ہاشمی By: مصدق رفیق, Karachiاسے خبر ہی نہیں تھی وہ کس جہان میں تھا
کھلی فضا تھی پرندہ کھلی اڑان میں تھا
اسے میں دیکھ رہا ہوں تمہارے سینے میں
وہ ایک تیر جو اب تک مری کمان میں تھا
سو اس کی جان بچانی بہت ضروری تھی
بھلے وہ بھاگ کے آیا مری امان میں تھا
کہ ناؤ تھکنے لگی تھی ہوا سے لڑتے ہوئے
مگر وہ حوصلہ باقی جو بادبان میں تھا
کوئی تو بات نکلنی تھی بات کرنے سے
کوئی تو رابطہ دونوں کے درمیان میں تھا
اسے پتہ ہی نہیں تھا یہ رتجگا کیا ہے
مجھے خبر ہی نہیں تھی میں امتحان میں تھا
کسی کی بات سے مجھ کو یقیں ملا آربؔ
وہی یقین جو اب تک مرے گمان میں تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






