اسے تنہا بلکتا چھوڑ آیا
Poet: بشارت کریم By: بشارت کریم, Sitamarhiاسے تنہا بلکتا چھوڑ آیا
میں دل میں زخم بھرتا چھوڑ آيا
جو حصہ بن کے تھا میری ہنسی کا
اسے چوکھٹ پہ روتا چھوڑ آيا
جسے میں چومتاتھا یار جی بھر
اسی آنکھوں میں دریا چھوڑ آيا
تمہارے ساتھ رہنے کےلیئے ہی
نہ جانے آج کیا کیا چھوڑ آيا
چلاہوں جانب منزل میں لیکن
دیا آنگن میں جلتا چھوڑ آيا
کہ پھر ملنے کے خاطر عکس اپنا
تیرے شیشے میں رکھا چھوڑ آيا
جسے اب یاد کر کے ہوں پشیماں
وہ صحرا وہ علاقہ چھوڑ آيا
کڑکتی دھوپ میں بادل کریمی
کہی پر میں برستا چھوڑ آيا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






