اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں
Poet: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi By: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi, Englandحدیثِ یار بیاں ہم جو کرنے لگتے ہیں
اداس شام کے گیسو سنورنے لگتے ہیں
جہانِ فکر میں امکان ڈھونڈتے اکثر
سخن کے نت نئے پہلو ابھرنے لگتے ہیں
تمھارے قُرب کی حدت سے مثلِ قوسِ قزح
مرے مزاج کے موسم بدلنے لگتے ہیں
اسے ہنر کہو یا شعبدہ حسینوں کا
خیال بن کے یہ دل میں اترنے لگتے ہیں
ہم ایک دل نہ ترا موم کر سکے ، ورنہ
ہماری دید سے پتھر پگھلنےلگتے ہیں
کھلیں ہوں کھڑکیاں گھر کی سجے ہوں پھول جہاں
وہاں سے منچلے بھنورے گزرنے لگتے ہیں
سوال کرنے سے بچوں کو روک کر اکثر
ہم ان کی سوچ کے خود پر کترنے لگتے ہیں
یہ انتہائے محبت ہے یا کہ پاگل پن
ہنسیں بھی اب تو آنسو نکلنے لگتے ہیں
ملے ہیں اُن سے ، بہت ہی عزیز ہیں ہم کو
کرید لیتے ہیں جب زخم بھرنے لگتے ہیں
غمِ جہاں کے عذابوں کو جھیلتے خورشید
مرے وجود کے بخیے ادھڑنے لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







