احساس زیاں چین سے سویا نہیں جاتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااحساس زیاں چین سے سویا نہیں جاتا
رونا بھی اگر چاہوں تو رویا نہیں جاتا
ساحل کی نگاہوں میں کوئی درد ہے ایسا
موجوں سے مِری ناؤ کو ڈھویا نہیں جاتا
کیا جانیے کس بات پہ دشمن ہوا موسم
سرسبز کسی شاخ کو ہویا نہیں جاتا
لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ
پھر دل میں تِرا پیار سمویا نہیں جاتا
ڈوبا ہے جو ہر خواب تو پھر تم سے گلہ کیا
اب تم سے مِری پلکوں پہ سویا نہیں جاتا
اب موسمِ باراں کی تڑپ ہے مِرے دل میں
برسات سے اب زخم بھی دھویا نہیں جاتا
قندیل وفا بن کے سلگتی ہی رہی ہوں
اب وشمہ کوئی سپنا پرویا نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






