اب زیست مجھ کو تھوڑی سی آسان چاہیے
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتھوڑا خلوص ،تھوڑا سا احسان چاہیے
مجھ کو تو ایک ساتھی مہربان چاہیے
جذبوں کا اک الاؤ دہکتا رہے سدا
دل کی خوشی کے واسطے سامان چاہیے
دشوار راستے بھی سہل ہو ہی جائیں گے
چلتے چلو کہ چلنے کا ارمان چاہیے
مشکل تھی مشکلوں سے گزاری ہے آج تک
اب زیست مجھ کو تھوڑی سی آسان چاہیے
دکھ سکھ میں میرا ساتھ نبھاؤ گے عمر بھر
اتنا تو مجھ کو پیار میں پیمان چاہیے
ویراں ہے میرا گھر مرے دل کی طرح بہت
اس میں ذرا سی دیر کو مہمان چاہیے
ہر غم کو جو بھلا دے فقط ایک ہی پل میں
ایسی تمھارے ہونٹوں پہ مسکان چاہیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






