اب دل میں مہکتے ہوئے جذبے نہیں ملتے
Poet: asadullah abbasi By: asadullah abbasi , rawalpindiاب دل میں مہکتے ہوئے جذبے نہیں ملتے
کتابوں میں سوکھے ہوۓ پھول نہیں ملتے
نہ وہ جنون رہا نہ ویسی وحشت رہی
اب تو سحرا میں بھٹکتے ہوۓ مسافر نہیں ملتے
ابر تو برستا ہے روز ہی یہاں
لیکن بھیگے ہوۓ چاند چہرے ملتے
چاہے کتنا بھی کوئ بدل جائے
خالی یادوں سے کبھی دل نہیں بہلتے
بیگی ہے شب روٹھی سی ہے چاندنی
اب روز چاہت میں کسی کے دیے نہیں جلتے
باھر چلتی ہے صبح و شام باد صبا
نہ جانے کیوں اس خویلی کے موسم نہیں بدلتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






