ابھی دل رقیبوں کا جلا رہا ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاابھی دل رقیبوں کا جلا رہا ہوں
نیا حشر شاید وہ اٹھا رہا ہو ں
رکو ایسی جلدی بھی کیا میرے قاتل
تجھے اب تماشا ہی دیکھا رہا ہوں
سناؤ نہ مجھ کو اندھیروں کا قصہ
مگر عشق میں بھی وہ جلا رہا ہوں
مرا آئینہ بن کے چاہت ہی میں
مجھے ہی محبت سے دیکھا رہا ہوں
جنہیں میں نے مشکل سے رخصت کیا ہے
وہی خواب دل میں وہ بتلا رہا ہوں
نگاہوں میں بس جائے گی زندگی ہی
مسلسل مری آنکھ دیکھا رہا ہوں
لگا کر رقیبوں سے وہ دوستی جو
مرے دشمنوں کو وہ پھیلا رہا ہوں
وہ وشمہ مرے ساتھ چلتے ہوئے جو
مرے بھی دکھوں کا مداوا رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






