ابھی اس موڑ پہ آکر پلٹ جانا بھی نھیں ممکن
Poet: MZ By: MZ, karachiابھی اس موڑ پہ آکر پلٹ جانا بھی نھیں ممکن
کہ مر جانا تو آسان ھے مکر جانا نھیں ممکن
تیرے کوچے میں آتا ھوں تو لگتا ھے زندہ ھوں
تجھے دیکھے بنا جی لوں سنو جانا نھیں ممکن
تو چلتا ھے تو لگتا ھے ستارے رقص کرتے ھیں
میرے اس دل کی حالت کو سمجھ پانا نھیں ممکن
میری آںکھوں کی چلمن میں بسے کچھ خواب ھیں تیرے
کہ ان آنکھوں کے خوابوں کا بکھر جانا نھیں ممکن
تیرا ھی زکر ھوتا ھے تیری ھی یاد آتی ھے
سوا تیرے کسی کا زندگی میں آنا نھیں ممکن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






