آگ میں پھول
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIآٹو ورکشاپ میں کام کرنے والے ایک معصوم مکینک کا استفسار
تم کن پر نظمیں لکھتے ہو
تم کن پر گیت بناتے ہو
تم کن کے شعلے اوڑھتے ہو
تم کن کی آگ بجھاتے ہو
اے دیدہ ورو!
انصاف کرو
اس آگ پہ تم نے کیا لکھا؟
جس آگ میں سب کچھ راکھ ہُوا
مری منزل بھی، مرا رستہ بھی
مرا مکتب بھی، مرا بستہ بھی
مرے بستے کے لشکارے بھی
مرے ست رنگے غبارے بھی
مرے جگنو بھی، مرے تارے بھی
اے دیدہ ورو!
انصاف کرو
وہ راہ نہیں دیکھی میں نے
جو مکتب کو جاتی ہے
اس ہوا نے مجھ کو چھوا نہیں
جو نیندوں کو مہکاتی ہے
اور میٹھے خواب دکھاتی ہے
اس کرب پہ تم نے کیا لکھا؟
اے دیدہ ورو!
انصاف کرو
مری تختی کیسے راکھ ہوئی؟
مرا بستہ کس نے چھین لیا؟
مری منزل کس نے کھوٹی کی؟
مرا رستہ کس نے چھین لیا؟
انصاف کرو اے دیدہ ورو!
انصاف کرو!
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






