آج تیرے شہر میں ہم اجنبی جانے گئے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha آج تیرے شہر میں ہم اجنبی جانے گئے
مدتوں کی قربتیں اور دل کے افسانے گئے
ہر برس پھولوں کے تحفے بھیجتے رہے جنہیں
آج ان کے تیر میری ہی طرف تانے گئے
آج پھر ٹوٹی ہیں میرے دل کی نازک کھڑکیاں
ناز تھا جن پہ ہمیں وہ دوست پہچانے گئے
ایک مدت سے ہمارے دل کے جو مہماں رہے
آج میرے پاس سے وہ بن کے بیگانے گئے
نہ وہ منظر، نہ وہ نغمہ، نہ وہ ساز دل ربا
ساقیا جانے سے تیرے مے و میخانے گئے
ہم نے دل کی چاہتوں سے آپ کہ مانا مگر
ہم اگر مانے گئے تو غیر ہی مانے گئے
کیا صلہ خالد وفا کا تو نے پایا ہے یہاں
آج بھی ہم بے وفا کے نام سے جانے گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






