آج آیا ہوا مہمان نہ جانے پائے
Poet: ابن مفتی - سید ایاز مفتی By: ابن مفتی - سید ایاز مفتی , Houston TX USAجانِ جاں دیکھ کہ انجان نہ جانے پائے
رائیگاں پھر مرا اعلان نہ جانے پائے
میری سرکاروہاں جائے بسانے بستی
جس جگہ کوئی بھی انسان نہ جانے پائے
پھر کمر کس لی ہے دلدا ر کےکوچے کی طرف
یہ جھکاؤ ترا میلان نہ جانے پائے
عشق بھی کرنا ہے کافر سے مگر یاد رہے
دیکھنا دولت ِ ایمان نہ جانے پائے
وسوسہ ہر گھڑی ہر آن پریشان کرے
اب جو آئے تو یہ شیطان نہ جانے پائے
بن گیا ابر کرم دیکھ ارادہ مفتی
آج آیا ہوا مہمان نہ جانے پائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






