سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات کے باعث ملک میں کاروباری رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ اور شفافیت میں واضح بہتری آئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران جولائی تا دسمبر 2025 کے عرصے میں مجموعی طور پر 21,542 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
ایس ای سی پی کی جانب سے اتوار کو جاری اعلامیے کے مطابق اصلاحات کے بعد کاروبار شروع کرنے کے عمل میں نمایاں آسانی پیدا ہوئی ہے، جس سے تعمیلی اخراجات میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ کمیشن کے مطابق سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 35,087 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد 27,542 تھی۔ رواں مالی سال میں رجسٹر ہونے والی 99.9 فیصد کمپنیوں کا اندراج مکمل طور پر آن لائن نظام کے ذریعے کیا گیا۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مرکزی نکتہ کمپنی رجسٹریشن کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے، جس کے تحت کمپنیاں ای زی فائل (eZfile) نظام کے ذریعے رجسٹر کی جا رہی ہیں۔ یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ای او بی آئی اور صوبائی محکموں سمیت مختلف اداروں سے منسلک ہے، جبکہ حکومت کے ون ونڈو نظام سے انضمام کے بعد رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام کے باعث مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے، جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ قومی ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کے موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایس ای سی پی کو “ریفارمز چیمپئن” قرار دیا اور کاروباری ماحول کی بہتری میں ادارے کے کردار کو سراہا۔
ایس ای سی پی کے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ورلڈ بینک کی بزنس ریڈی 2024 رپورٹ میں پاکستان کو کاروبار کے آغاز کے اشاریے میں 50 ممالک میں چھٹا نمبر دیا گیا، جبکہ آئی ایف سی کے سروے میں ایس ای سی پی کو گورنمنٹ ٹو بزنس ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی تیاری کے حوالے سے 65 وفاقی ریگولیٹری اداروں میں سرفہرست قرار دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے کمپنیوں پر انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS) کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ اور تفصیلی انکشافات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک کو مضبوط بنایا گیا، کارپوریٹ الٹی میٹ بینیفیشل اونر رجسٹری قائم کی گئی اور ایف اے ٹی ایف معیارات کے مطابق رسک بیسڈ نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریگولیٹری نظام کے ذریعے کاروبار میں آسانی، شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کا عمل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔