صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ملک کے تمام مسائل کا حل صوبوں کی تعداد میں اضافے میں ہے، اسی مقصد کے لیے باقاعدہ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام میں نہ ان کا اور نہ ہی ان کی جماعت کا کوئی ذاتی فائدہ ہے۔
کامونکی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ آئی پی پی چاہتی ہے کہ نئے صوبوں کے نام تبدیل نہ کیے جائیں، جبکہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر ایم کیو ایم نے بھی ہماری حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کے پاس اکثریت ہے تو ایک کے بجائے اپنے زیادہ وزرائے اعلیٰ بنا لے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا، آج بیرون ملک پاکستانیوں کی عزت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور دنیا پاکستان سے برابری کی سطح پر بات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس ہم سے دوگنا طیارے تھے، لیکن بھارت کے سات طیارے گرائے گئے جبکہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہیں گرا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ جنگ میں چین، ترکی اور آذربائیجان پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، آج کئی ممالک پاکستان سے طیارے خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور پاک فوج کا وقار دنیا بھر میں بلند کیا، سپہ سالار نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
صدر آئی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر جرنیل بہادر ہو تو ہر سپاہی بہادر ہوتا ہے، ٹرمپ بھی مختلف مواقع پر بھارتی طیارے گرنے کا ذکر کر چکے ہیں، دنیا میں بھارت کا سر جھک گیا جبکہ پاکستان سربلند ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، فوج اور عوام کے اتحاد کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ پاک فوج کے خلاف بولنے والا ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا، سرحدوں پر فوجی عوام کے بچوں کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ سیاست ضرور کریں لیکن خدا کے لیے ملک کی حفاظت کرنے والوں کی عزت کریں، دہشتگردوں کا ساتھ دینے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ پاک فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش دراصل ملک کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے خول سے باہر نکلنا ہوگا اور حکمران جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے صوبے کے عوام کو فائدہ پہنچائیں۔
ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامونکی کو موٹر وے سے منسلک کیا جائے گا، لاہور سیالکوٹ روڈ کو چھ رویہ بنا دیا گیا ہے جبکہ پنڈی تک سڑک کو بھی چھ رویہ بنایا جائے گا۔