اقوام متحدہ میں تین پاکستانی قراردادیں منظور، ایران، سعودی عرب اور عمان سے اہم سفارتی رابطے: ترجمان دفتر خارجہ

image

پاکستان نے علاقائی امن و استحکام، دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی سفارتی تعاون کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں منظور کرلی ہیں، جبکہ سلامتی کونسل نے فعال جنگی صورتحال میں سفارت کاری کے کردار سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ صدارتی قرارداد بھی اتفاق رائے سے منظور کرلی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے 23 اکتوبر کو استنبول میں آر فور وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جس میں فلسطین، یمن، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد پر زور دیا گیا، جبکہ یمن میں حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمنی حکومت سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ اور بلا رکاوٹ بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ترجمان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسی روز فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بحری سلامتی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں، بشمول مقدس مقامات کے قریب حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات کے تقدس کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور مکہ الائنس فار ڈیفنس کے تحت دو مقدس مساجد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان نے 24 اکتوبر کو اردن میں چرچ کے جنازے کے جلوس پر دہشت گرد حملے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت اور عوام سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

پاکستان اور سنگاپور کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور پیشہ ورانہ تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی ہوا۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شینگ نے یکم نومبر کو پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ 2 نومبر کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر نے چین پاکستان گورننس سیمینار میں شرکت کی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی جماعتوں کے روابط اور حکمرانی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان 26 اکتوبر کو ترجمانوں کی سطح پر تیسرے مذاکرات بھی منعقد ہوئے، جن میں میڈیا روابط، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور عوامی سفارت کاری میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 5 نومبر کو برطانوی وزیر مملکت برائے سیکیورٹی ڈین جاروس سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور آر فور پلس ای فور فریم ورک پر گفتگو کی۔ اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے مشترکہ عالمی کوششوں پر زور دیا۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سالانہ انسداد دہشت گردی مذاکرات بھی 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے 3 نومبر کو پاکستان کی تین قراردادیں منظور کیں۔ ان میں علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق قرارداد بلا ووٹ منظور ہوئی، روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قرارداد کے حق میں 180 ووٹ آئے، جبکہ غیر جوہری ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا دھمکی سے تحفظ کی مؤثر بین الاقوامی ضمانتوں سے متعلق قرارداد 122 ووٹوں سے منظور ہوئی اور اس کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 5 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فعال جنگی صورتحال میں سفارت کاری کے کردار سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ صدارتی قرارداد کے بجائے صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کیا۔ بیان میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور دیرپا سیاسی حل کے لیے ثالثی، سفارتی روابط اور مذاکرات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بے بنیاد دعوے اور گمراہ کن بیانیے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں میں 3500 سے زائد جانی نقصانات ہوئے، جن میں صرف 2026 کے دوران 1400 سے زائد افراد شہید ہوئے۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 4 نومبر کو پاکستان کی آبی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں آبی تحفظ کے قانونی، سفارتی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کے خودمختار حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ہدایت کی۔

پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ چینی سفیر نے 25 اکتوبر کو اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں سی پیک، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ بحرین، عمان، تاجکستان، مالدیپ، ازبکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلی فونک رابطے ہوئے، جبکہ ایرانی سفیر نے 4 نومبر کو دفتر خارجہ میں نائب وزیراعظم سے ملاقات کی۔

5 نومبر کو اسحاق ڈار نے عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستان نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں تعینات سفیروں اور سفارت کاروں کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کے حوالے سے بریفنگ بھی دی، جس کا مقصد معدنیات اور سرمایہ کاری کے شعبے میں بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

ترجمان کے مطابق 2 نومبر کو یوتھ فورم فار کشمیر کے 40 رکنی وفد نے دفتر خارجہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت سے آگاہ کیا گیا۔ 3 نومبر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 28ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 126 رکنی وفد اور سری لنکا کے 20 رکنی وفد نے بھی دفتر خارجہ کا دورہ کیا۔

5 نومبر کو پاکستان نیوی وار کورس کے تقریباً 150 پاکستانی اور غیر ملکی افسران و فیکلٹی ارکان پر مشتمل وفد کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ، دوطرفہ تعلقات کے استحکام، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US