ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس کا مطلب ہے کہ معاہدے کے نفاذ کے لیے ضروری عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس تحریر میں ہم نے چار اہم سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی ہے جن میں مکہ اتحاد پر ترکی کی اپوزیشن کے اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔

ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس کا مطلب ہے کہ معاہدے کے نفاذ کے لیے ضروری عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ، اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا سہ فریقی اتحاد جس میں پاکستان اور سعودی عرب بھی شامل ہیں، اس وقت نافذ العمل ہو جائے گا جب فریقین منظوری کی دستاویزات سٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کو جمع کروا دیں گے۔
یہ معاہدہ ترکی کو نیٹو سے باہر ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل کرتا ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی پر بھی بیرونی حملے کو تمام اتحادیوں پر حملے کے طور پر دیکھا جائے گا اور ایسی صورت میں اراکین ایک دوسرے کو فوجی مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس تحریر میں ہم نے چار اہم سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی ہے جن میں مکہ اتحاد پر ترکی کی اپوزیشن کے اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مشترکہ طور پر مکہ اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ترکی مکہ اتحاد میں کیوں شامل ہوا؟
ترکی علاقائی ملکیت کے دیرینہ اصول کے فریم ورک کے تحت سمجھتا ہے کہ علاقائی مسائل کو خطے کے ممالک کے اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ترک حکومت کا ماننا ہے کہ جب خطے کے ممالک مقامی مسائل حل نہیں کر پاتے تو بیرونی طاقتیں مداخلت کرتی ہیں، جس سے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں معاہدے پر بحث کے دوران ترک نائب وزیر خارجہ نے اراکین پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہوئے انقرہ کے نقطہ نظر کا خلاصہ درج ذیل الفاظ کے ساتھ کیا: ’آج کی دنیا میں، جہاں ہمارے خطے کے مسائل مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں، تینوں ممالک نے ان مسائل کے حل کا انتظار کرنے کے بجائے خود خطے کی سلامتی کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ تعاون اور اجتماعی دفاع، اور اس سمت میں ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے قانونی بنیاد رکھی ہے۔‘
ترکی کے مطابق اس معاہدے میں وقت کے ساتھ دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ترکی، مکہ معاہدے کے علاوہ پاکستان، قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ بدر معاہدے کا بھی حصہ ہے، ان اقدامات کے ساتھ علاقائی سلامتی سے متعلق نئے تناظر میں بانی قیادت کی پوزیشن بھی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔
قطر، صومالیہ اور لیبیا میں پہلے سے ہی فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد، ترکی اب سعودی عرب کے لیے اسی طرح کے منصوبے پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کھلاڑی بننا ہے۔
ترکی کا ایک اور مقصد خطے میں اس ممکنہ خلا کو پر کرنا بھی ہے جو مستقبل میں امریکی انخلا کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے اور اس کام میں ترکی خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایک نیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
کیا ترکی سعودی عرب میں فوج بھیجے گا؟
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے 7 اگست کو مکہ دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن چند ہی دن بعد سعودی عرب کے خلاف یمنی حوثی باغیوں کے حملوں، خاص طور پر اہم توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنے لگے۔
انقرہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی ممکنہ حمایت خالصتاً دفاعی ہوگی اور حوثیوں کے خلاف فوجی اقدام یا کارروائی کا منصوبہ نہیں ہے۔
اطلاعات ہیں کہ حکومت سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے دوبارہ منظوری حاصل کرے گی۔
انقرہ کے پچھلے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو فضائی دفاع کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور دیگر تکنیکی شعبوں میں مدد فراہم کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ترکی آئین کے آرٹیکل 92 میں درج ضوابط اور قواعد کے مطابق کام کرے گا جو ترکی کو جنگ کی حالت کا اعلان کرنے اور ترک مسلح افواج کو بیرون ملک بھیجنے یا ترکی میں غیر ملکی مسلح افواج کی موجودگی کی اجازت دینے کے اختیارات دیتا ہے۔
آرٹیکل کے مطابق، حالت جنگ کا اعلان کرنے، بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز سمجھے جانے والے معاملات میں ترک مسلح افواج کو بیرون ملک بھیجنے یا ترکی میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کی اجازت دینے کا اختیار ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے پاس ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان ریاض میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھترکی میں حکومت اور اپوزیشن مکہ اتحاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی، اور ریپبلکن پیپلز پارٹی سبھی نے اس معاہدے کی حمایت میں ووٹ دیا۔
معاہدے کے خلاف ووٹ دینے والی جماعتوں میں نیو پارٹی، گڈ پارٹی، ری اسٹیبلشمنٹ آف ویلفیئر پارٹی، ڈی ای ایم پارٹی اور فیلیسیٹی پارٹی تھیں۔
حکومتی عہدیدار اس معاہدے کو امن اور استحکام کا مظہر قرار دیتے ہوئے اتحاد کا دفاع کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر دفاع پر مبنی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں درج حق دفاع کے فریم ورک کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔
حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاہدہ کسی بھی ملک کو براہ راست نشانہ نہیں بناتا اور خطے کے دیگر برادر اور دوست ممالک کی شرکت کے لیے کھلا ہے۔
ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی اور جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف اٹھنے والی تنقید میں درج ذیل نکات تھے۔
’معاہدے کی توثیق سے قبل عمل درآمد‘: حکومت پر اپوزیشن کی سب سے اہم تنقید یہ تھی کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ کی منظوری سے پہلے ہی نافذ کر دیا گیا تھا۔
حزب اختلاف نے یاد دلایا کہ 7 اگست کو طے پانے والے معاہدے کے حصے کے طور پر متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سیکورٹی رسک: حزب اختلاف کے ترجمانوں کی طرف سے اٹھائے گئے سب سے اہم سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ ترکی مکہ الائنس میں شامل ہو کر اپنی دفاعی ضروریات کو کیسے پورا کرے گا۔
حزب اختلاف کے مطابق ترکی کا ان تنازعات اور بحرانوں میں ملوث ہونے کا خطرہ ہے جن کا اس اتحاد میں شمولیت سے پاکستان اور سعودی عرب کو سامنا کرنا پڑے گا اور یہ معاہدہ علاقائی استحکام کے بجائے نئے فوجی محاذ آرائی کا باعث بنے گا۔
حزب اختلاف نے یہ بھی استدلال کیا کہ یہ معاہدہ ترکی کو ایک ایسی پوزیشن میں لے جائے گا جہاں وہ دوسرے ممالک کے تنازعات میں سیاسی، فوجی اور اقتصادی اخراجات برداشت کرے۔
نیٹو کی رکنیت کی طرف سے فراہم کردہ مشترکہ دفاع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، اپوزیشن کے ترجمان نے کہا کہ حکومت وضاحت نہیں کر رہی ہے کہ ترکی کو اس معاہدے کے ذریعے سیکورٹی کے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے پہلے ہی بیانات دینا شروع کر دیے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکہ الائنس کے ممالک کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، جو صومالیہ میں ترکی کی فوجی موجودگی کو خطرہ بنا سکتے ہیں۔
خطرے کا اندازہ: حزب اختلاف کی طرف سے ایک نکتہ جس پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب مختلف جغرافیائی علاقوں میں واقع ہیں اور ان کے سیکورٹی خدشات مختلف ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ دفاعی اتحاد بنانے والے ممالک ایک مخصوص خطرے کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں، لیکن مکہ اتحاد کسی خطرے کی وضاحت نہیں کرتا ہے۔
دہشت گردی: اپوزیشن کی طرف سے سوال کیے گئے عناصر میں یہ تھا کہ مکہ الائنس کے اتحادی دہشت گردی سے نمٹنے میں کس طرح تعاون کریں گے۔

حزب اختلاف کے ترجمان نے یہ یاد کرتے ہوئے کہ تینوں ممالک میں دہشت گردی کی مختلف تعریفیں ہیں اور اس کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی فہرست اور ان کا مقابلہ کیا گیا ہے، نوٹ کیا کہ اس نقطہ نظر کو کس طرح اختیار کیا جائے گا اس بارے میں شفافیت کا فقدان ہے۔
یمن میں تنازع: حزب اختلاف کی طرف سے اکثر اٹھائے جانے والے مسائل میں سے ایک سعودی عرب کی ممکنہ فوجی حمایت کی نوعیت اور خطرات ہیں۔
حزب اختلاف کے بعض ترجمانوں کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا واحد مقصد یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی موجودگی کو ختم کرنا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ دراصل سعودی عرب اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے امریکی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایک پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ’ہم ترک فوجیوں کو آرامکو کے کرائے کے فوجی بنانے کے لیے ’نہیں‘ کہتے ہیں، ہم مکہ معاہدے کو ’نہیں‘ کہتے ہیں۔‘
نیٹو کی ذمہ داریاں: ایک اور نکتہ جس پر اپوزیشن نے خاص طور پر زور دیا وہ یہ امکان تھا کہ مکہ الائنس میں شامل ہونا ترکی کی نیٹو کی ترجیحات اور ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔
حزب اختلاف کے ترجمانوں نے یاد دلایا کہ ترکی، 1952 میں نیٹو کی رکنیت کے بعد سے دوسری سب سے بڑی فوج کے ساتھ اتحادی کے طور پر، اہم ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مکہ الائنس کے ارکان کو متاثر کرنے والے ممکنہ بین الاقوامی بحران نیٹو کے اندر انقرہ کی پوزیشن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
بدر مفاہمتی یادداشت پر 21 اکتوبر کو دوحہ میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر ترکی کی دفاعی صنعت کے سربراہ حلوک گورگون، ترکیہ کے وزیرِ دفاع یشر گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جواہری نے دستخط کیے۔کیا مکہ اتحاد میں شامل ہونے سے ترکی کے مغرب کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے؟
مکہ اتحاد اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ دفاعی اور سیکورٹی تعاون کا ایک ٹھوس مظاہرہ ہے جسے ترکی نے حال ہی میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تیار کیا ہے۔
حکومت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی، نیٹو کے ایک رکن کے طور پر، ان ممالک کے ساتھ جو تعلقات اور اتحاد بناتا ہے، اسے مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے ایک مسئلہ نہیں، بلکہ نئے میکانزم کے قیام کے حوالے سے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتا ہے۔
ترکی نے مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ 23 اکتوبر کو استنبول میں E3 (برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی) کے ساتھ قائم کردہ علاقائی کوارٹیٹ (R4) میکانزم کی پہلی میٹنگ کو بھی انقرہ نے خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے اشارے کے طور پر دیکھا ہے۔