پشاور میں محکمہ بلدیات کی جانب سے افغان شہریوں کو جعلی پیدائش سرٹیفکیٹ اجراء کا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس کے بعد صوبائی حکومت نے متعلقہ ویلج سیکریٹری کو ملازمت سے برخاست کردیا ہے۔
اس حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سینئر) لوکل گورنمنٹ کی جانب سے 21 نومبر کو جاری معطلی کے احکامات کے بعد نیبر ہڈ کونسل یوسف آباد کے سیکریٹری کے خلاف انکوائری شروع کی گئی۔
انکوائری کمیٹی نے سرکاری ریکارڈ اور تحریری بیانات کی جانچ کے بعد اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ 29 اکتوبر کو یوسف آباد نیبر ہڈ سے ایک پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا جو بعدازاں ترمیم شدہ شکل میں ایک اور نیبر ہڈ کونسل سے بھی اسی شخص کے نام پر جاری پایا گیا۔
یہ سرٹیفکیٹ جس شہری کے نام پر تھا وہ پولیس اسٹیشن پہاڑی پورہ کے مطابق افغان شہری ہے اور اس وقت سینٹرل جیل میں قید ہے۔
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ ویلج سیکریٹری نے سرٹیفکیٹ میں ترمیم کے حوالے سے والد کا تحریری بیان فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم متعدد یاد دہانیوں کے باوجود یہ بیان فراہم نہیں کیا گیا۔
مزید برآں صرف ستمبر اور اکتوبر کے دوران نیشنل کونسل کے ریکارڈ کی جانچ میں انکشاف ہوا کہ دو ماہ میں 325 پیدائشی، 99 اموات، 65 نکاح، ایک طلاق اور 45 ترمیم شدہ سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن میں سے بڑی تعداد کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ان میں 193 پیدائشی، 91 اموات، 56 نکاح اور 30 ترمیم شدہ سرٹیفکیٹس کے ریکارڈ غائب پائے گئے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل لوکل گورنمنٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے 17 اور 19 دسمبر کو موصول ہونے والے خطوط اور نادرا رپورٹس میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ افغان شہریوں کو جاری کیے گئے متعدد پیدائشی سرٹیفکیٹس مذکورہ سیکریٹری نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر اور بغیر شناختی دستاویزات کے جاری کیے جن میں دوسری نیبر ہڈ کونسل کی حدود بھی شامل ہے جو معاملے کو مزید مشکوک بناتا ہے۔
انکوائری کمیٹی نے تمام حقائق کی روشنی میں سفارش کی ہے کہ محمد سیف اللہ کے خلاف خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے تحت بڑی سزا عائد کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے۔ جس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر شبیر حسین نے مذکورہ نیبر ہڈ کونسل کے سیکریٹری کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے۔