ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی سے متعلق من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ زمینی حقائق کو چھپا نہیں سکتا۔ بھارت طویل عرصے سے خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ بھارت بیرون ملک ماورائے عدالت قتل میں ملوث رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی گئیں جبکہ بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کیں۔ ترجمان کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی، جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط، وسیع اور کثیرالجہتی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض سے متعلق کسی حتمی معاہدے کی فی الحال کوئی اطلاع نہیں۔ کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد ہی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک سعودی دفاعی تعاون باہمی فریم ورک کے تحت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے سے متعلق کسی فیصلے کی انہیں معلومات نہیں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیر غور ہیں تاہم فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون باہمی معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہتا ہے۔