حکومت سندھ کی جانب تمام ٹرانسپورٹرز کو ٹریفک قوانین اور روٹ پرمٹس کی شرائط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے گاڑیاں ضبط کرنے کا انتباہ جاری کردیا گیا۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تمام گاڑیاں مقررہ رفتار میں چلانا لازم ہوگا، اوورلوڈنگ، غلط اوورٹیکنگ، تیز رفتاری، لاپرواہ ڈرائیونگ اور ون وے کی خلاف ورزیوں سے اجتناب کیا جائے، نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 کے تحت ایکسل لوڈ کی مقررہ حد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور اسکول، کالج یا تعلیمی اداروں کی گاڑیوں میں CNG، LPG یا LNG کے استعمال پر پابندی ہوگی، تمام پبلک سروس گاڑیوں میں ایمرجنسی ایگزٹ، فرسٹ ایڈ باکس اور فائر ایکسٹینگشر کی دستیابی اور فعالیت لازم قرار دی گئی ہے۔
گاڑیاں صرف درست اور مؤثر دستاویزات، بشمول رجسٹریشن، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کے تحت اور صرف منظور شدہ روٹس پر ہی چلائی جائیں گی، بھاری گاڑیوں کے لیے بائی پاسز اور لنک روڈز، جن میں انڈس ہائی وے (این-55) اور مہران ہائی وے شامل ہیں، کے استعمال پر پابندی عائد ہوگی، تمام ڈرائیورز کے پاس درست HTV ڈرائیونگ لائسنس ہونا لازمی ہوگا۔
322 کلومیٹر سے زائد سفر کی صورت میں دو اہل HTV لائسنس یافتہ ڈرائیورز کی موجودگی لازم ہوگی، متعدد ٹرانسپورٹ آپریٹرز پبلک سروس اور مال بردار گاڑیاں بغیر روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ یا زائدالمیعاد دستاویزات کے ساتھ چلا رہے ہیں، جو موٹر وہیکل قوانین اور روٹ پرمٹس کی شرائط کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
تمام متعلقہ ٹرانسپورٹرز اور آپریٹرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 28 فروری 2026 تک اپنی گاڑیوں کے روٹ پرمٹس حاصل کریں یا ان کی تجدید کروائیں، مقررہ تاریخ کے بعد سیکریٹری پی ٹی اے، آر ٹی ایز، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔ ہدایات کی عدم تعمیل کی صورت میں گاڑیاں ضبط کی جائیں گی، آپریٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرائی جائے گی، زائدالمیعاد روٹ پرمٹس منسوخ کر کے سرکاری واجبات کی ادائیگی اور کلیئرنس کے بعد دیگر اہل ٹرانسپورٹرز کو الاٹ کیے جائیں گے۔