ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺮ ﻧﯿﺰﮮ ﮐﯽ ﺑﺲ ﻧﻮﮎ ﭘﮧ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺫﺩ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻋﺮﻭﺟﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻘﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﮐﮯ ﺣﺎﮐﻢ_ﺍﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻓﺎﺋﺰ
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﻭﮦ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﻼﮞ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺎﻗﺮ ﮐﻮﺉ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﭘﮑﮍﮮ
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






