ہمارے گناہوں کے سبب آیا ہے زلزلہ لوگوں
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTہمارے گناہوں کے سبب آیا ہے زلزلہ لوگوں
نام الہی لو کہ کڑا ہے مرحلہ لوگوں
یہ اعلان قیامت ہے خدا کی طرف سے
کہ ہم مبتلا ئے آزمائش ہیں زلزلہ و برف سے
اس سے پہلے کہ خدا ہم سے روٹھ جائے
چلو اپنے گناہوں کا کر لیں ازالہ لوگوں
ہاتھ جوڑیں اور جھکا دیں ہم جبیں اپنی
خدا سے سلامت مانگیں جانیں اور زمیں اپنی
چلو گناہوں سے نیکیوں کا کریں تبادلہ لوگوں
احکام خدا کے مطابق بنائیں حیات کا نظام اپنا
ہر بنی نوع تک پہنچا ئیں یہ پیغام اپنا
اسی طور ہو گا ہمارے گناہوں کا کفارہ لوگوں
یہ بھی فضل ربی ہے کہ ہم زندہ ہیں
چلو خدا سے کہیں سب کہ ہم شرمندہ ہیں
نئے ڈھنگ سے شروع کریں حیات کا سلسلہ لوگوں
وقت نازک ہے پیارو چلو خود کو بیدار کریں
روز ازل کے لیے انسانیت کو تیار کریں
چلو متحد ہو کے کریں آج یہ فیصلہ لوگوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






