ہم میں کچھ کمی ہے یا پھر تُو بدل گیا ہے کیا ؟
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarتیرے نام سے راحت ملی، تُجھ سے مُجھے چاہت ملی
دل میں تیرے پیار کی کلی، تیرے ملنے کے بعد کھلی
تُو ہی مُجھ کو پیارا ہے، تیرے پیار پہ جیون ہارا ہے
اِس بدن پہ، روح پہ، زُلفوں پہ، اب حق صرف تمھارا ہے
میں تیرے لئے ہی جیتی ہوں، میں تیرے لیے مر سکتی ہوں
مُجھ سے کہو اے دلرُبا کیا تیرے لیے کر سکتی ہوں
دل میں تیری باتیں ہیں، فرقت کی لمبی راتیں ہیں
مُجھے پل پل ڈستا رہتا ہے، تیری یادیں بہت ستاتی ہیں
کیوں تُو مُجھ سے یوں دُور ہوا، کیوں ملنے سے مجبور ہوا
کیا برسوں کے بعد تمھارا ملنے کا دستور ہُوا
دل اپنا کس کو دیکھاؤں، زخم اپنے کس کو بتاؤں
سینے سے کس کے لگ کر، زخم اپنے دل کے بتاؤں
ہم سے ہوئی خطا ہے کیا؟ ہم نے کی جفا ہے کیا ؟
ہم میں کچھ کمی ہے یا پھر تُو بدل گیا ہے کیا ؟
وہ انتہا کدھر گئی، دیوانگی کدھر گئی
وہ اِک میرے دیدار کو، بیتابیئِ دل کدھر گئی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






