ہر زندگی ہے ایک داستان ۔۔میری جان
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاس دیدہ ء تر پہ نہ ہو حیران میری جان
ہر آدمی ہے اب تو پریشان میری جان
بارود کے دھویں میں چھپے جاتے ہیں منظر
ہر زندگی ہے ایک داستان میری جان
میں آب پہ لکھی ہوئی اک سر گزشت ہوں
کیوں ڈھونڈ رہے ہو میرا عنوان میری جان
تہذیب کے پردے میں چھپی ہے حیوانیت
ہر چیز سے ارزاں ہے یہاں جان ۔۔۔میری جان
اک صبح خوشگوار جنم لے گی وہاں سے
ٹوٹے گی جہاں جا کے میری تان۔۔میری جان
دعوی تو نہیں ہے مجھے فردوس بریں کا
ہاں ڈھونڈ رہا ہوں تیرا امکان میری جان
اپنی ہی پڑی ہے یہاں ہر ایک نفس کو
یہ زیست ہے یا حشر کا میدان میری جان؟
مردار کو مل جاتا ہے آئین کا درجہ
بن جاتے ہیں کرگس جہاں سلطان میری جان
کیوں پر پھیلائے بیٹھی ہے پھر سے یزیدیت
کربل میں آ گیا کوئی مہمان ۔۔۔میری جان؟
وہ راستہ اوروں کو بھلا کیسے بتائے؟
جو کھو چکا ہو اپنی ہی پہچان میری جان
مایوس نہیں رحمت یزداں سے کبھی میں
رکھے گا سروں پر وہ سائبان میری جان
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






