گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا
Poet: UA By: UA, Lahore گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا
کچھ ہم نے سیکھنے کا مادہ ہی کم پایا
جس سانچے میں ڈھلنا تھا نہیں ڈھل پائے
جو کچھ حاصل کرنا تھا نہیں کر پائے
جس قدر وقت نے بدلا ہم بدل گئے
وقت کے ساتھ ساتھ ہم بھی بدل گئے
تقدیر نے جس سانچے میں ڈھالا ڈھل گئے
دل کو جس کی چاہت تھی وہ نہیں پایا
دل کو جس سے راحت تھی اسے گنوایا
کوئی تدبیر کارگر نہ رہی
کوئی تقریر پر اثر نہ رہی
کیا بتائیں زندگی میں کیا کھویا کیا پایا
جو چاہا وہ نہ پایا جو نہ چاہا وہ پایا
ہر خوشی کا حصہ امید سے کم پایا
کیسا کیسا ہم نے نصیب سے غم پایا
مسکراہٹ کے بدلے آنکھوں میں نم آیا
جب خوشیوں کے لمحوں میں یاد تیرا غم آیا
گردشِ ایام نے کچھ ایسا ستم ڈھایا
کچھ ہم نے سیکھنے کا مادہ ہی کم پایا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






