کیوں مجھے تنہا چھوڑ کر جاتے رہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتم پاس رہ کر بھی دور رہے
گناہ کر کے بھی بے قصور رہے
مرضی سے آتے رہے
مرضی سے جاتے رہے
مگر جب کبھی ہم نے
بلایا تو ہمیشہ مصروف رہے
عید کے چاند کی طرح ہمیں
رخ دیکھانے کہ لیے ترساتے رہے
اور کبھی ہمیں پتھر سمجھ کر
ٹھوکر لگاتے رہے
ہماری محبت پے ہمیں
اور آزماتے رہے
یوں تو لکھے بہت
وعدے تم نے مگر
ہر موڑ پے اپنے
وعدے مٹاتے رہے
جاناں ! یہ میری زندگی تھی
جسے تم کھولنا سمجھے لگئے
کبھی اوپر سے نیچے
گراتے رہے اور کھبی
آسمان پے بٹھاتے رہے
تمہیں میں بےوفا لکھوں
یا پھر باوفا لکھوں
جبکہ تم تو مجھے اپنے
ہزاروں رنگ یکھاتے رہے
جبکہ جان گئے تھے تم بھی
کہ تمہارے ساتھ سے ہی
زندہ ہوں میں پھر کیوں
مجھے تنہا چھوڑ کر جاتے رہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






