کچھ اپنی زند گی پہ بھی مجھ کو ملال ہے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanکچھ اپنی زند گی پہ بھی مجھ کو ملال ہے
کچھ ان غم ہے جینا بھی جن کو محال ہے
آئے گا کیسے ملک میں کوئی بھی انقلاب
مفلس عوام مست ہیں جیسا بھی حال ہے
اوروں کے واسطے تو بچھاتا رہا سدا
خود جس میں قید ہو گیا تیرا ہی جال ہے
ان شاعرانہ باتوں سے جیتوں میں کیسے دل
لوگوں کو تو عزیز تر دنیا کا مال ہے
اب زندگی میں الجھنیں لاکھوں سہی مگر
آتا تو مجھ کو آج بھی تیرا خیال ہے
ملزم کو ہر سزا سے وہ آخر بچا گیا
اپنی دلیل پر اسے حاصل کمال ہے
آپس میں لڑ رہیں ہیں یوں مدت سے ہم یہاں
کچھ تو سمجھ اے دوست یہ دشمن کی چال ہے
شہرت و علم و حسن و دولت پہ ناز کیوں
زاہد ہر اک عروج کو آخر زوال ہے
More General Poetry
ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
جہا ں میں قد ر دے اردو زبا ں کو تو جہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH






