کسک ساتھ تو ہوگی
Poet: شاہد خاکی مکرانوی By: شاہد خاکی مکرانوی, Makranaبیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تو ہوگی
بچھڑے ہیں سو ملنے کی للک ساتھ تو ہوگی
مسرور گزاریں گے شبِ ہجر اسی پر
محبوب کی سانسوں کی مہک ساتھ تو ہوگی
ہے بیر اگر نام سے دشنام پکارے
الفاظ میں لہجے کی لچک ساتھ تو ہو گی
اقرار کہ انکار کریں یہ آپ کی مرضی
اظہار کے شعلوں کی لپک ساتھ تو ہوگی
وہ گیت، بے سنگیت سناتے ہیں، سنائیں
پازیب کی جھنکار، دھنک ساتھ تو ہوگی
رک جائے مری سانس تو پھر ہو گا سو ہو گا
وہ جان میری سانس تلک ساتھ تو ہوگی
موسی کو کہاں فکر جلے طور کی چوٹی
ہے شوق کہ جلوے کی جھلک ساتھ تو ہوگی
نظروں سے نظر گر نہ ملائیں تو گلہ کیا
ہے پیار نیا تھوڑی جھجک ساتھ تو ہوگی
بے لطف سمجھ کر نہ مسل دینا یہ غنچے
ان ننھے شگوفوں میں چٹک ساتھ تو ہوگی
چہرے پہ ہنسی دیکھ کے دھوکے میں نہ آنا
ان قہقہوں میں دیکھ سسک ساتھ تو ہوگی
یہ سوچ کے ترشی سے مری صرفِ نظر کر
خاکی ہے بدن تھوڑی کھنک ساتھ تو ہوگی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






