کرونا سے بیمار پڑا ہوں گھر کے کونے میں
Poet: اسد رضا۔۔ By: Corona Poetry, MPK دنیا سے منقطع یار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
کرونا سے بیمار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
ایک اکیلا تن تنہا ہوں اپنا سا منہ لیے۔
گو اپاھج لاچار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
دوست و احباب سب سارون سے دور کہیں تنہا۔
کمرے میں بند یار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
سب کو فکر نے اپنی گویا مار رکھا ھے۔
کہ موت کے آدھار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
ھے دعائے صیحت کی کوئی اپیل جہان سے۔
کہ چلنے فھرنے سے ناچار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
موت کی دعا مانگنا جانتا ہوں کفر ھے۔
پر زندگی سے بیزار پڑا ہوں گھر کے کونے میں۔
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






