کبھی چاہا ہی نہیں
Poet: Lubna Kanwal By: Lubna Kanwal, karachiکیا یہ الفاظ میں تمہیں بول پاؤں گی
کیا دنیا میں دنیا والوں کوسمجھا پاؤں گی
کہ میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں اپنی ان آنکھوں کی نمی کو چھپا کر
تم سےیہ بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ کو کیسے روکوں گی
اور کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میرے دل ٹوٹنے کی آواز تو شاید تم سن نہ سکو
پر میں اپنے دل کو کیسے سمجھاؤں گی کہ
میں نے تمہیں کبھی چاہا ہی نہیں
میں خاموش تو رہ سکتی ہوں
اپنی ان آنکھوں کو کیسے خاموش کراؤں گی
اور تم سے کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں چاہا ہی نہیں
میں سامنے تو تمہارے آجاؤں گی
پر ان لرزتے ہاتھوں کو کیسے چھپاؤں گی
اب تم ہی کچھ بتاؤں کہ
میں کیسے بول پاؤں گی کہ
میں نے تمہیں چاہا ہی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







