چہرا نہیں ملتا شناسا اب کوئی
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabadچہرا نہیں ملتا شناسا اب کوئی
اچھا نہیں لگتا تقاضا اب کوئی
دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں
ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی
شاید کبھی وہ لوٹ آئے بھول کر
یوں دے رہا ہے اک دلاسا اب کوئی
کچھ دیر پہلے ہی جلایا ہے دیا
چکر لکے گا پھر ہوا کا اب کوئی
جو ڈوب جائے ان نشیلی آنکھوں میں
اس کو نہیں ملتا کنارا اب کوئی
کتنی اداسی سج رہی ہے شہر میں
جیسے مری ہو اک تمنا اب کوئی
شاکر میسر ہی نہیں پل کا سکوں
آ ڈھونڈ لیتے ہیں مسیحا اب کوئی
More Sad Poetry






