چھین لیتے ہیں وہ پردہ ظلم دہشت سے یہاں
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaچھین لیتے ہیں وہ پردہ ظلم دہشت سے یہاں
آرزو تُو کیا کرے گا ایسی ملّت سے یہاں
ایک جذبہ دل میں رکھ کر زندہ رہنا سیکھ لے
نیک رہ پر تُونے چلنا اچھی نیّت سے یہاں
گیت نغمے ساز باجے اور تَرَنّم کیوں نہیں
خامشی ہے اس جہاں میں ایک مدّت سے یہاں
اس کی نظروں سے وہ موتی گرتے گرتے تھم گئے
سوچ کر کہ قرب ملتا ہے اطاعت سے یہاں
روح ان کی منتظر ہے موت کی آغوش کی
تیرے بندے جو ستائے جاتے ظلمت سے یہاں
نوچ ڈالو جسم اس کا اپنی خواہش کے لیے
ان کو مطلب ہے ہوس سے, کچھ نہ عزت سے یہاں
کیوں کتابیں پڑھ رہے ہو؟ کیا ہے تُو نے ڈھونڈنا؟
علم کا ہے نور ملتا اچھی صحبت سے یہاں
کھوگیا ہوں اس جہاں میں تجھ کو پانے کے لیے
کیا ملے گا عشق تیرا اب عبادت سے یہاں ؟
ایک دریا سا رواں ہے ان کے دل میں آگ کا
حاسدوں کے شر سے پیدا اور عداوت سے یہاں
کیسا مسلم تُو ہے عامر بندگی کیا ہے تری؟
کر رہا تھا تُو بھی باتیں ایک مورت سے یہاں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






