پیار کے افسانے میں
Poet: فہیم شاعر By: Faheem Shayer, Hubخُدا جانے کون سی کثر رہے گئی اُسے چاہنے میں
دل کے ارمان تک جلا دیئے اُسے پانے میں
خیال سے بھی خیال نہ آیا کبھی کسی اور کا
اتنا پیار تھا اُس کے لیئے دل کے آشیانے میں
زندگی بھر تنہاہ رہا جس کے لیئے تنہایوں میں
اُسے تھوڑا سہ بھی درد نہ ہوا میرا دل جلانے میں
اور کیا بتاہوں اپنی عاشقی کا عالم فہیم
سب کچھ پاہ کے بھی کچھ نہ ملا اس پیار کے افسانے میں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






