پیا
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurاب تُُُُو ہی بتا، ہم کس سے کہیں
کیوں سوچوں کے اس صحرا میں
ہم آوارہ سے پھرتے ہیں
کیوں غزلوں میں ویرانی ہے
کیوں نظمیں ایسی لکھتے ہیں
کیوں ہم کو اپنے جیون کا
ہر لمحہ قہر سا لگتا ہے
یہ راتیں کتنی لمبی ہیں
یہ چاند بھی زہر سا لگتا ہے
یہ صبحیں بوجھل بوجھل سی
یہ شامیں کتنی تنہا ہیں
یہ چوڑیاں کتنی چپ چپ ہیں
اِِِِن گجروں میں خوشبو ہی نہیں
جب زیست کا حاصل۔۔۔۔۔۔۔تُُُُُُُُو ہی نہیں
جب تُُُُو ہی نہیں تو پھولوں سے
زُُُُُلفوں کو سنوارہ کون کرے
اب اِِِِِن پتھرائی آنکھوں کو
کاجل سے نکھارا کون کرے
اب صحنِِِِِِ چمن کے پھولوں میں
وہ رنگ کہاں، وہ بات کہاں
دیتی ہے تمہارے بعد مزہ
اب ساون کی برسات کہاں
ہم جانتے ہیں کہ لوٹ آنا
اب تیرے بس کی بات کہاں
تم آؤ تو یہ موسم بھی زرا
بدلے کچھ اپنا بھیس پیا
کیوں بھایا ہے پردیس پیا
بھیجو کوئی سندیس پیا
کب آؤ گے اپنے دیس پیا
کب آؤ گے اپنے دیس پیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






