پچھلی رات کی نرم چاندنی ، شبنم کی نرم خنکی سے رچا ہے
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIپچھلی رات کی نرم چاندنی ، شبنم کی نرم خنکی سے رچا ہے
یوں کہنے کو اس کا تبسم برف صفت ہے، شعلہ نما ہے
وقت کو ماہ و سال کی زنجیر وں میں پکڑ کر کیا پایا ہے
وقت تو ماہ و سال کی زنجیروں میں اور بھی تیز بڑھا ہے
ایک معصوم سے پیار کا تحفہ گھر کے آنگن میں پایاتھا
اس کو غم کے پاگل پن میں کوٹھے کوٹھے بانٹ دیا ہے
آنسو تارے رنگ گلاب سب ہی پردیس چلے جاتے ہیں
آخر آخر تنہائی ہے، کس نے کس کا ساتھ دیا ہے
نظم غزل افسانہ گیت اک تیرا ہی غم تھا جس کو ہم نے
کیساکیسا نام دیاہے، کیسے کیسے بانٹ لیا ہے
آہوں کے بادل کیوں دل میں بن برسے ہی لوٹ گئے
اب کے برس ساون کا مہینہ کیسا پیاسا پیا سا گیا ہے
پھول سی ہر تصویر میں ذہن کی دیواروں سے اتر چکا ہوں
پھر کیوں دل میں کانٹا سا رہ رہ کر چبھتا رہتا ہے
مجبوری تھی صبر کیا ہے، پاؤں کو توڑ کر بیٹھے رہے ہیں
نگری نگری دیکھ چکے ہیں دوراہے جھانک لیا ہے
ان آنکھوں کا متوالا پن، ان ہو نٹوں کی جنبش کم کم
نشہ ہے جو ڈول رہا ہے، جادو ہے جو بول رہا ہے
مجھ کو ان سچی باتوں سے اپنے جھوٹ بہت پیارے ہیں
جن سچی باتوں سے صدیوں انسانوں کا خون بہا ہے
یارو سو نا چاندی بو کر، سو نا چاندی کاٹو جَاؤ
ہم نے آنسو کی کھیتی کی نین نگر آباد کیا ہے
بدرؔ تمہاری فکر سخن پر ایک علامہ ہنس کر بولے
یہ لڑکا نو عمر پرندہ اونچی اڑان سیکھ رہا ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






