پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں
Poet: شاہد By: شاہد, Attockپرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں
مٹھی بھر احساس لیے پھرتا ہوں
چاروں اور سمندر اور میں پل پل
ایک انجانی پیاس لیے پھرتا ہوں
رام کو تو بن باس لیے پھرتا تھا
میں خود میں بن باس لیے پھرتا ہوں
محفل محفل خیمہ زن مایوسی
منزل منزل آس لیے پھرتا ہوں
ہر موسم کا کرب چھپا ہے مجھ میں
میں ہر رت کی پیاس لیے پھرتا ہوں
More Sad Poetry






