پردیس کا عالم
Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIAدیس میں رہنے والوں کسی پردیسی سے پوچھوں
کہ دیس کیا ہوتا ہے
اپنوں سے خفا ہونے والوں کسی پردیسی سے پوچھو
کہ اپنوں کا ساتھ کیسا ہوتا ہے
ہر خوشی ہر غم میں بھی اپنوں سے دور رہنا کیسا ہوتا ہیں
پاس جانا چاہوں بھی تو نہ جا سکوں اس دوری کا احساس تبھی ہوتا ہے
اک پردیسی نے کہا میری ماں ہر پل میرے ساتھ رہتی تھی
کیونکہ مجھے اندھرے میں ڈر لگتا تھا
پر آج یہ کیسا منظر ہے آندھی ہیں طوفان ہیں اندھیرا ہے
اور میں اکیلا ہوں
اچانک سے ماں کا فون آگیا ماں نی پوچھا بیٹا کیسے ہو
میں چپ رہا کچھ نہ کہا
کہا تو بس اتنا کہا کہ ماں میں پردیسی ہوں میں پردیسی ہوں
میں ماں سے کیسے کہتا کہ آج سخت اندھیرا ہے
مجھے تنہائی نے آگھیرا ہے
کوئی نہیں ہے اپنا میرے پاس سوائے ان پلوں کے
جو اپنوں کے ساتھ گزارے ہیں
پردیس کا عالم تو وہی جانے جس نے تنہائی میں
اپنوں کی جدائی میں اپنی زندگی کے کچھ پل گزارے ہیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







