وہ مجھ سے روٹھ جانا
Poet: Saadat Amin Satti By: Saadat Amin Satti, abudhabiکیا اب بھی تیری سادگی مشہور ہے
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
کیا اب بھی سجتے ہیں جوڑے میں گلابی پھول
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ تیرا بار بار روٹھ جانا اور خود مان جانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ کاغذ کی کشتیاں وہ بارش کا پانی
وہ میرا سمجھانا وہ تیری نادانی
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ کسی کا آنا اور چھپ کے گھبرانا
وہ باندھ کے پٹیاں وہ جھوٹا زخم دیکھانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ ٹھنڈی ہوا میں میرے پہنچے چھپ جانا
کبھی مان جانا کبھی خوب مجھ کو ستانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ بارش میں تو آتی جب مجھ سے ملنے
وہ تیرا گھبرانا اور ساتھ لپٹ جانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







