وہ اجنبی کیونکر شناسا لگتا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadوہ اجنبی کیونکر شناسا لگتا ہے
اِس دنیا سے ماورا سا لگتا ہے
جب کبھی آئینہ دیکھتا ہوں
اپنا چہرا ہی بے وفا سا لگتا ہے
زندگی کی طرح مقدر میرا
نجانے کیوں اُلجھاسا لگتا ہے
مجھ کو تو خود سے گِےل ہیں ہی
تُو بھی مجھ سے خفا سا لگتا ہے
میرے ہم نشیں تیرے بغیر
دل دھڑکنا بھی سزا سا لگتا ہے
یہ شخص جو تنہا ہے سرِ محفل
عجب نہیں کہ رضا سا لگتا ہے
دیکھنے میں اشک ہے ایک
جھیلنے میں دریا سا لگتاہے
مجھے دیکھ کر پستی میں پڑا، وہ
حیرت ہے ،حیرت زدہ سا لگتا ہے
رہتا ہے اس لیے وہ دور شائد
قریب آنا اُسے بُرا سا لگتا ہے
سرِ راہ جو راکھ دیکھی اُس نے
کہنے لگا کوئی آشیانہ سا لگتا ہے
سانسوںمیں تسلسل نہیں پہلے سا
زندگی کا سفر باقی زرا سا لگتا ہے
آج پھر تھاما ہے ہاتھ اُس نے
آج پھر دے گا دلاسا لگتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






