وفا کرےجفا کرے، وہ رَوش جوروا کرے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadوفا کرےجفا کرے، وہ رَوش جوروا کرے
جہاں رہےسکھی رہےخدا کرےخدا کرے
کہا سُنااگر کبھی ذرا اُسےبُرا لگے
بُرا بھلاکہا کرےخفا نہیں ہُوا کرے
اُفق اُفق سجا کرےنگر نگرپھرا کرے
جہاں کہیں رہا کرےکبھی تو آملا کرے
قدم قدم رہے اُسےبہار کاہی سامنا
الگ تھلک خفا خفاخِزاں صدارہا کرے
سکوں ملےہزار بار اِضطراب ِدل سے بھی
کرم کی اِک نگاہ جوکبھی ہمیں عطا کرے
نگاہ میں جودیکھ لےسوال کچھ ا ُٹھے ہوئے
اِ دھر اُدھراگر مگر، جواز یوںگھڑا کرے
نواز کےجو وصل کومٹا دِےسارےفاصلے
ہِےایک یہِ ہی آرزو خدا نہ پھرجُدا کرے
وفا کِی پاسداری کی لگا کے آگ سینے میں
ہے سا نحہ یہ عشق کا،کہ رات دن جلا کرے
اُمید کاچراغ گر،کبھی جو تھرتھرا اُٹھے
نظر نظرجلا کرےنظر نظربجھا کرے
نصیب میں رضا ترےوصال تونہیں مگر
یقین یہ ضرور ہےخدا ہی معجزا کرے
ہے برسبیلِ تذکرہ یہ بات یونہی چھیڑ دی
اگر اُسےبُرا لگےمعاف یہ خطا کرے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






