والد محترم “خان جی“
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)والد محترم “خان جی“
دل کے دیپ جلتے رھے
غم کے بادل اٹھتے رھے
آپکی زندگی کو یاد کرتے رھے
جدائی میں آپکی کڑھتے رھے
آپکی بارعب شخصیت کو جانچتے رھے
آپکی شفقت پدری کو دھراتے رھے
آپ محنت سے حلال روزی کماتے رھے
غریب رشتہ داروں کی کفالت کرتے رھے
فارغ وقت میں اپنے بچوں کو پڑھاتے رھے
غریبی میں بھی خودی کو بڑھاتے رھے
دلوں میں محبت والفت کے جزبے جگاتے رھے
ذندگی میں بزرگوں کی مثالیں دیتے رھے
ھمیں کہانیوں سے سبق سکھاتے رھے
عام لوگوں کےدکھ درد میں شریک ھوتے رھے
ھر کسی کے کام آتے رھے
اپنے حصے کے چراغ جلاتے رھے
مسجدوں اور مدرسوں کو چندہ دیتے رھے
یتیموں اور مسکینوں کی امداد کرتے رھے
ذندگی میں رھنمائی دیتے رھے
مظلوموں کی دادرسی کرتے رھے
حضور اکرم کی سیرت طیبہ پڑھتے رھے
پہروں فرمودات الہی رقم کرتے رھے
آپکی لحد پر لوگ دعائے مغفرت کرتے رھے
ھم اولاد آپ پر قران خوانی کاثواب بھیجتے رھے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






