ناؤ کاغذ کی بنا بنا کر پانی میں بہانا یاد ہو گا
Poet: عادل صد یقی By: Adil siddeeqi, Riyadhناؤ کاغذ کی بنا بنا کر پانی میں بہانا یاد ہو گا
یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہوگا تمہے
چاند دیکھنے ہر گھر کی چھت پر جانا یاد ہوگا
نماز کے لئے صبح دوستوں کو تیار کرانا یاد ہو گا تمہے
یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہو گا
عید کے دن عید گاہ میں سب سے پہلے جانا یاد ہو گا
گاؤں کے ہر ہر گھر میں جا کر سیویاں کھانا یاد ہو گا تمہے
یہ بات ہے اپنے بچپن کی بچپن کا زمانہ یاد ہو گا
برسات کی تیز بارش میں جی بھر کے نہانا یاد ہوگا
بجلی کی کڑکڑاہٹ سے ڈر کر دوستوں کاہاتھ پکڑنا یاد ہوگا تمہے
ابّو کو دیکھ کر پھسل کے گرجا نے کا بہانہ کرنا یاد ہو گا
بھیگے کپڑوں میں گھر جاکر امی سے باتیں بنا نا یاد ہوگا تمہے
غلطیوں پہ بھی عادل ابّو سے کوئی سزا نہ ملنا یاد ہوگا
ہر گھڑی امی کے آنچل سے لپٹ لپٹ کر کھیلنا یاد ہوگا تمھے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






