میں ہمیشہ زندگی سے زیادہ موت کے سحر میں گرفتار رہا
Poet: akmal naveed By: Muhammad Anwer, Karachiاور جب میں نے خود کا ایک بلند جگہ پایا
لوگوں کی آوازوں کو شور مچاتے سنا ،کہ رک جاؤ
آگے مت جاؤ
تو ایک مسکراہٹ میرے چہرے پر پھیل گئی
کئی ہاتھ مجھے بچانے کے لئے آگے بڑھے
جنہیں پکڑ کر میں واپس محفوظ دنیا کی طرف لوٹ آتا
مگر
میرے ہاتھ ان کی گرفت تک نہیں پہنچ سکے
میں نے سوچا اور
اپنے ہونٹ پر موت کی پیاس کو شدت سے محسوس کیا
میں موت سے بہت قریب کھڑا ہوں
ایک بلند جگہ جہاں سے گرنے کی خواہش
آج میرے وجود کی گرفت سے آزاد ہوگئی
میں نے اپنے آس پاس پھیلی تاریک خلاء میں پیر رکھ دیا
زمیں پر گرنے تک
میرے وجود ہوا میں تیر تا رہا
اس پرواز میں جس لمس کو میں نے محسوس کیا
وہ میری ماں کا لمس ہے
اس کی آواز میں ایک پکار ہے
زندگی کی تنہائی سے ٹوٹ کر میں اپنی ماں کی آغوش میں گرتا جا رہا ہوں
زمین پر بکھرے میرے لہولہاں وجود پر
کھلی ہو ئی آنکھوں میں پھیلی آسودگی
میرے اپنوں کو ہمیشہ یاد رہے گی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






