میں کیسےرنگوں کی اب پھولوں سے باتیں کروں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamتم ہی کہو یہ کیسے قصہ ہوا
میں کیسےرنگوں کی اب پھولوں سے باتیں کروں
وہ رنگ سارے جو اَوجھڑ گۓ ہیں
منوں مٹی تلے سو گۓ ہیں
پھول سارے گلشن کے او گۓ ہیں
زمین کی چادر اوڑھے سو گۓ ہیں
تم ہی کہو یہ کیسے قصہ ہوا
میں کیسے رنگوں کی اب پھولوں سے بات کروں
وہ بابا کی پیاریاں
بھائیوں کی لاڈلیاں
وہ ماں کی دولاریاں
جا کر کہاں ہیں وہ سو گیئں
اندھیرے راستوں میں کہاں وہ کھو گیئں
زمین کی چادر اوڑھے وہ سو گیئں
یہ کیسا منظر میری آنکھوں نے دیکھا
جن ماتھوں پہ ہوتی تھی ماں کے بوسوں کی خوشبو
وہ ماتھے اب زخموں سے چور ہیں
وہ ماں کہاں ہے
اَس کے بوسے کہاں
آنکھیں جمد رہیں
دل بھی روتا رہا
تم ہی کہو یہ کیسے قصہ ہوا
میں کیسےبہاروں کی کلیوں سے باتوں کروں
یہ کیسا سسکتا سا ایک باپ
اَس کے بازو ناتواں ذخموں سے چور ہیں
اَس کے بچے اَس کےبازو ہیں اَس سے جدا ہو گئے
بہت حیرت میں وہ
بہت وصاحت میں وہ
آنکھیں بے خبر ہیں
ہوش سے ناپید ہیں
تم ہی کہو یہ کیسے قصہ ہوا
میں کیسے جَگنووں کی آبشاروں کی باتیں کروں
وہ ماوَں کی آنچل ہیں کہاں کھو گۓ
نرم بانہوں کے حالیے ہیں کہاں رہ گۓ
منوں مٹی میں دَب کے ہیں سو گۓ
تم ہی کہو یہ کیسے قصہ ہوا
میں کیسے رنگوں کی پھولوں سے باتیں کروں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






