میں محبت کا جلا ہوں
Poet: Madni ali By: Madni Ali, Multanمیں محبت کا جلا ہوں تُم اناء کی بات کرتے ہو
وعدہ تو فقط تماشا ہے تُم وفا کی بات کرتے ہو
خود کو چھوڑ دینے سے ہی خود کا پتہ چلتا ہے
ہے فناء کی خواہش،تُم بقاء کی بات کرتے ہو
ہوتے اگر کبھی بیمار تو شفاء کو بھی مان لیتے ہم
ہم بیمار نہیں اسیر ہیں،تُم شفاء کی بات کرتے ہو
چلو مان لیتے ہیں کہ محبت بھی خطا ہے اِک طرح سے
ہے نفرت بھی ہزار خطا،تُم خطا کی بات کرتے ہو
کُچھ پہنچے ہیں اِس حال میں کہ دعائیں بھی بے اثر ہیں
ہے ہر آه بھی بد دعا،تُم دعا کی بات کرتے ہو
بے مطلب ہیں سزا کی باتیں،تُم کیا سزا دو گے
ہے عمر بھی اک سزا،تُم سزا کی بات کرتے ہو
فرض کی کیا خبر،میں اب فرض شناس نہیں رہا
نمازِ عشق ہے ادا،تُم قضاء کی بات کرتے ہو
اُن کی نظریں دردِ سر بنی ہیں اب ہو گا کیا علی
ہیں کئی نظریں بے حیا،تُم حیاء کی بات کرتے ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






