میں درد دل میں تجھے پکاروں
Poet: پنچھی By: Abdulwadood, Chiniotتیری یاد میں خود کو سنواروں جو نہ سنواروں تو کیا کروں پھر
میں دردِ دل میں تجھے پُکاروں جو نہ پُکاروں تو کیا کروں پھر
میں تیری ہستی کا اِک شجر تھا جو تیرے بسنے سے تھا شاداب
اب تیرے بِن خود کو اُجاڑوں جو نہ اُجاڑوں تو کیا کروں پھر
کہیں عشقِ کامل میں تیری واحدت میں ہو نہ جائے شریک کوئ
میں دنیاں بھر سے ہی بِگاڑوں جو نہ بِگاڑوں تو کیا کروں پھر
تو ہی تو دل کی منتیں ہیں تجھ سے ہی دعائیں عبادتیں ہیں
میں تیرے صدقے کیوں نہ اُتاروں جو نہ اُتاروں تو کیا کروں پھر
زرا تڑپ کر زرا سسک پھر تیری آس میں بلک بلک کر
میں شبِ ہجر کو یوں گُزاروں جو نہ گُزاروں تو کیا کروں پھر
میری جان و روح اُکتا چکے ہیں پنچھی میرے جسم قفس سے
تو میں جاں تجھ پہ کیوں نہ واروں جو نہ واروں تو کیا کروں پھر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






