میرے لیے زندگی اور خواہشات کا نیا مفہوم
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiجو ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے تو
تو کیا غم ہے
ہتھیلی خالی کرلوں گا
لکیریں سب اٹھالوں گا
بنالوں گا انھیں رستہ
ترے قدموں تلے جاناں
بچھادوں گا
مقدر کے مِرے تارے
مرے کس کام کے جانم
انھیں میں توڑ کر تیری حسیں آنکھوں میں بھردوں گا
تری آنکھوں کو امیدوں کی لو سے جگمگادوں گا
مرے سپنے
ترے رنگوں سے جو رنگین ہیں سارے
تری خوشبو سے جو ہر پَل مہکتے ہیں
انھیں کردوں گا ریزہ ریزہ
ان کے رنگ لے کر میں
ترا رستہ سجاؤں گا
مہک سے، بکھرے خوابوں کی
ترے ہر گام پر گلشن بساؤں گا
سلگتی خواہشیں میری
دہکتے جذبوں کے شعلے
خیالوں کے الاؤ
اور احساسات کی آتش
نئے قالب میں ڈھالوں گا
ترا رستہ منور کرنے کی خاطر
دیا ان کو بنالوں گا
شریکِ زندگی جو تو نہیں
تو یہ مری قسمت
میں اپنے رات دن سب
تیرے صبح شام کرتا ہوں
مِری یہ زندگی
جس میں نہیں اب آرزو کوئی
مِری یہ زندگی جس کو نہیں اب جستجو کوئی
یہ اپنی زندگی میں جان تیرے نام کرتا ہوں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






