میرے تخیل کے نام
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMوہ مجھ سے کہتی ہے کیوں یہ دکھی نظمیں سناتے ہو
اپنے ساتھ مجھے بھی رلاتے ہو کیوں باز نہیں آتے ہو
تمہیں بھولنا چاہتی ہوں مگر بھول نہیں پاتی ہوں
مجھے ہر پل تیری یادآتی ہےدل کو جلاتی ہے
کیسے کہوں تمہیں میں کتنا چاہتی ہوں
زمانے کے ڈر سے کچھ کہہ نہ پاتی ہوں
تجھےمیں پیار کرتی ہوں انجام سے بھی ڈرتی ہوں
میرے ذہن و دل پہ چھائے ہو بتاؤ کس دنیا سے آئے ہو
میرے دن رات میں تم ہو میری ہر بات میں تم ہو
جی چاہتا ہے تجھے اپنا بنالوںدل کی دھڑکن میں بسالوں
تیری یاد دل سے جا نہیں سکتی میں تجھے پا نہیں سکتی
دل سے مجبور ہو کر فون اٹھاتی تیرا نمبر ملاتی ہوں
پھر سوچتی ہوں تم شکوے شکاتیں کرو گے
دل دکھانے والی باتیں کرو گے
تیرے دل میں رہنا ہے مجھے فقط اتنا کہنا ہے
دنیا کے سامنے محبت کو تماشہ نہ بناؤں گی
میں سدا کے لیے اپنے اصغر کو بھول جاؤں گی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






