ميری ميت كفن ميں لپٹی پڑی تھی" نيلم"
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreكتاب - عشق كے ہر ورق پركچھ دھندلے الفاظ تھے
تيری بے وفائيوں تيری كج ادائيوںكےكچھ باب تھے
دشمن-جاناں بھی ھم كو جان سے محبوب تھے
ميرے دل پر ميرے قاتل تيری چاھتوں كے وار تھے
الفت سے تيری دل پر ميرے غموں كے نشان تھے
سينے كو ميرے چھلنی كئيے ہوئے وه تيرے پيار كےعزاب تھے
فراق - يار ميں تمام عمر لہو آنكھوں سے برسنے كے
يہ تيرے دئيے ہوئےحسيں زخموں كے كمال تھے
ميرے الفاظ ميں ڈھلتی وه صرف اک تيری هی صورت تھی
ميرے ہونٹوں پر ماضی كی بےبسی كے بيان تھے
مت پوچھو كه لہو روتا ديكھ كر ان آنكھوں كو
ميرے غمگساروں كے كيا كياحالات تھے
ميںسمجھی كه آئے ہيں وه احساس-ندامت لے كر
مگر ميرے قاتل طوفان -نفرت لے كر آئے تھے
ميری ميت كفن ميں لپٹی پڑی تھی" نيلم"
اور كيا ميرے قاتل كے شہانہ مسكرانے كے انداز تھے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






