منزل
Poet: مسافر نارووالی By: مسلم عتیق, Sioux Falls, SD (USA)راہ کٹھن ھے دور ہے منزل جسم پہ طاری لرزا سا ہے
ایک تمہاری آس پہ قأم دل آوارہ چل نکلا ہے
ٹھرو ٹھرو لمحو ٹھرو ایسی بھی آخر کیا جلدی
زکر ھمارا ان کی محفل میں دوبارہ چل نکلا ہے
ہلکی ہلکی حدت شمسی نہ کویٔی محور نہ کویٔی منزل
دھونڈنے اپنے ہی محور کو اک سّیارہ چل نکلا ہے
حسن کا پرتو عشق کا جلوہ تیری یاد کی خشبو آییٔ
دل میں ھمارے غزل کی مانند دھیان تمھارا چل نکلا ہے
محو تماشہ مست مۓ جاں پروانہ تو دیکھا ہوگا
دیکھنے اس دیوانۂ دل کو وہ انگارہ چل نکلا ہے
پیش نظر ہو صورت جاناں جاں بلب کیونکر نہ آۓ
ایک ایسا پیمانہ بھرنے یہ بنجارہ چل نکلا ہے
گاہے بہ گاہے زکر تمھارا یہ افسانہ کرتا جاۓ
لفظ نیا اک حرفِ تمنا اک استعارہ چل نکلا ہے
ہم نے ہی اپنے دل میں مسافرؔ کیا ارمان سجا رکھے ہیں
پھر سے لیۓ امّید کی شمع یہ بیچارہ چل نکلا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






